کوئی عنوان نہیں

 چاند پر پہلا انسان!! 


آج سے ٹھیک 53 سال پہلے 20 جولائی 1969 کو امریکا میں ناسا کے ہوسٹن کنٹرول سینٹر پر زمین سے تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ایک شخص کی آواز گونجتی ہے۔ 


"انسان کا یہ معمولی قدم انسانیت کے لئے ایک بڑی چھلانگ ہے".


یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ چاند پر اُترنے والا پہلا انسان نیل آرمسٹرانگ تھا۔ زمین پر فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے لانچ کے ٹھیک 3 دن، 3 گھنٹے اور 49 منٹ بعد اپالو 11 مشن کی چاند گاڑی جسے ایگل کا نام دیا گیا تھا، چاند کی سطح پر اُتر چکی تھی۔ اس میں ناسا کے دو مایہ ناز خلاباز نیل آرمسڑانگ اور بز ایلڈرن موجود تھے۔


 اس مشن میں ایک تیسرا خلاباز بھی موجود تھا۔ مگر وہ چاند پر نہیں تھا۔ اس خلا باز کا نام تھا مائیکل کولن۔ یہ دراصل ایک دوسرے سپیس کرافٹ میں تھا جو چاند کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ یہ سپیس کرافٹ "کمانڈ ماڈیول کولمبیا" تھا جسکا مقصد چاند پر اُترے خلابازوں کو بحفاظت زمین پر لے جانا تھا۔ یہ سپیس کرافٹ بھی اسی مشن کیساتھ چاند تک آیا تھا مگر چاند کے قریب پہنچ کر چاند گاڑی ایگل، اس سے الگ ہو گئی اور نیل آرمسٹرانگ نے ایگل کو بحفاظت چاند کی سطح پر اُتارا۔ 

آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن تقریباً 21 گھنثے اور 36 منٹ تک چاند پر رہے۔  اس دوران انہوں نے وہاں سے چاند کے پتھروں اور چٹانوں کے کئی نمونے اکھٹے کئے۔ ساتھ ہی ساتھ مختلف سائنسی آلات بھی چاند پر نصب کیے گئے۔ جنکی وجہ سےبعد  میں زمین پر سائنسدانوں کو تحقیق میں مدد ملی۔ 

جب انکا مشن چاند پر مکمل ہو گیا تو چاند گاڑی تیزی سے اسکی سطح سے اُٹھی اور چاند کے گرد چکر لگاتے سپیس کرافٹ سے جُڑ گئی۔ اس جڑنے کے عمل کے قریب تین دن بعد یعنی 24 جولائی 1969 کو اس سپیس کرافٹ کا ایک حصہ جس میں  تینوں خلاباز موجود تھے،  زمین کی فضا میں داخل ہوا اور بحرالکاہل میں پیراشوٹ کے ذریعے باحفاظت اُتر گیا۔


زمین پر موجود ناسا کی ٹیمز پہلے سے ہی سمندر میں اس حصے کی متوقع اُترنے کی جگہ کے قریب موجود تھیں۔ اس حصے کو خاص محنت اور ٹیکنالوجی سے اس طرح سے بنایا گیا تھا کہ یہ زمین کی فضا میں رگڑ سے تباہ نہ ہو جسکے لئے اس پر حرارت سے بچاؤ کے لئے مخصوص شیلڈ لگائی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی  خیال رکھا گیا کہ جب یہ سمندر میں اُترے تو تیرتا رہے تاوقتیکہ اسے  خلابازؤں کو نکالنے والی ٹیم نہ آ جائے۔

خلابازؤں کی زمین پر واپسی کو پوری دنیا کے میڈیا نے کور کیا۔  اپالو 11 کے بعد چاند پر پانچ مزید انسانی مشنز گئے جن میں 10 اور خلاباز چاند پر اُترے۔ یوں 1969 سے 1972 تک ان چھ انسانی مشنشز میں 12 افراد چاند پر اُترے۔

اپالو مشن ایک مہنگا مشن تھا جس پر خطیر رقم خرچ ہو چکی تھی۔ لہذا 1972 کے بعد امریکی حکومت اور پالیسی سازوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مزید پیسہ خلا میں تسخیر کے دوسرے مشنز پر لگایا جائے جن میں سب سے اہم خلائی شٹل کا پروگرام تھا جسکا مقصد ایک ایسا جہاز تیار کرنا تھا جو خلا میں جائے تو راکٹ کے ساتھ مگر واپس خود آئے اور ایک جہاز کیطرح زمین ہر لینڈ کرے۔۔اس کے کئی فائدے تھے(مگر یہ موضوع پھر کبھی). اسکے علاوہ ٹیکنالوجی اس قدر جدید ہو چکی تھی کہ روبوٹ لینڈر چاند اور مریخ پر بھیجے جا سکتے تھے۔ لہذا وہاں انسانوں کو مزید مہنگے مشنز کے ذریعے بھیجنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔


مگر اب ناسا 2025-2024 میں Artemis پرایکٹ کے تحت اک بار پھر سے انسان کو چاند پر بھیجے گا جسکا مقصد چاند پر رہ کر مریخ پر ممکنہ انسانی مشنز کے حوالے سے ٹیکنالوجیز کا ٹیسٹ کرنا ہے۔


25 اگست 2012 کو تاریخ کے ایک عظیم ہیرو اور چاند پر اُترنے والے پہلا انسان نیل آرمسٹرانگ 82 سال کی عمر میں دل کے عارضے کے باعث ہم سے جدا ہوگئے۔

 

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

*اس گروپ میں انشاء اللّٰہ سـبـق آموز کہانیاں  ، تفسیر اور واقعات  بھیجے جائیں گے*

            👇🏻👇🏻👇🏻

*https://chat.whatsapp.com/CqTGwEoa23O0CYmmAfVx5v

*آپ گروپ کو جوائن کرلیں اور گروپ کو صدقہ جاریہ کے لیے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں*

                        ~<                            >~

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی